بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1657 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
دوران اذان واش روم جانا کیسا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.. کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دوران اذان واشروم میں جانے کا کیاشرعی حکم ہے؟ سائل محمد عمران عطاری ملتان وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّاب دوران اذان واشروم وغیرہ میں جانے سے پرہیز ہی کرنا چاہئیے تاکہ اذان کا جواب دے کر ملنے والی نیکیاں حاصل کر سکے، لیکن حاجت کے وقت اگر کوئی واشروم میں چلا بھی جاتاہے توگناہ گار نہیں ہوگا. رسالہ فیضان اذان میں ہے : اذان کے دوران استنجاخانے جانا بہتر نہیں، کیونکہ وہاں اذان کا جواب نہ دے سکے گا، اور یہ بہت بڑے ثواب سے محرومی ہے ۔ البتہ شدید حاجت ہو یا جماعت جانے کا اندیشہ ہو تو چلا جائے ۔ (فیضان اذان صفحہ13-مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ