لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

دم بریدہ اور گلٹی والے جانور کی قربانی کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

دم بریدہ اور گلٹی والے جانور کی قربانی کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ بخیر ہیں حضور ایک بھینس ہے جسکی پونچھ کٹی ہوئی ہے پوری نہیں بلکہ جہاں سے بال اگا ہوا ہے ایک بکرا ہے جسکے اگلے پاؤں کے پاس گلٹی کی طرح ہے جو قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے دونوں کے قربانی کیسی ہے الجواب بعون الملک الوھاب ١ -ایسا جانور جس کی دم ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹی ہو اس کی قربانی جائز نہیں، اس سے کم کٹی ہے تو جائز ہے. ہدایہ میں ہے : ولا یجزیٔ مقطوعۃ الا ذن والذنب، اما الاذن فلقولہ علیہ السلام۔استشرفوا العین والا ذن ای اطلبواسلامتھما، واما الذنب فلا نہ‘عضوکامل مقصود فصار کالاذن۔(ہدایہ ص ۴۳۱ ج۴ کتاب الا ضحیۃ) اسی میں ہے : وما الذنب فلانہ عضو کامل مقصود فصارکالاذن۔(ص۴۳۱ج۴ ایضاً) بہار شریعت میں قربانی کے لیے نااہل جانوروں کو شمار کراتے ہوئے حضور صدرالشریعہ فرماتے ہیں : کان،دُم یاچَکّی ایک تہائی سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں ناک کٹی ہوئی ہو (بہارِ شریعت ج۳ص٣٤٣ ) واللہ اعلم بالصواب ٢ -ایسی چھوٹی گلٹی جس کی وجہ سے عرف میں جانور کو عیب دار نہ مانا جائے اس کی قربانی جائز ہے. فتاوی ہندیہ میں ہے : یجوز العاجزة عن الولادة لکبر سنہا والتي بہا کيّ، والتی لاینزل لہا لبن من غیر علة. (الفتاوى الهندية زکریا قدیم ٥/ ٢٩٧) اسی میں ہے : کل عیب یزیل المنفعة علی الکمال أو الجمال علی الکمال یمنع الأضحیة وما لا یکون بہذہ الصفة لایمنع.(الفتاوى الهندية، کتاب الأضحیة، الباب الخامس، زکریا قدیم ٥/ ٢٩٩) بہار شریعت میں ہے : قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہوناچاہیے اور تھوڑا سا عیب ہوتو قربانی ہو جائےگی ،مگر مکروہ ہوگی ۔“ ( بھار شریعت٣/ ٣٤٠،مکتبۃ المدینہ، کراچی) واللہ اعلم بالصواب کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ٢٦ ذوالقعدہ ١٤٤٣ / ٢٥ جون ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات