بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-599 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
دعا مانگتے وقت ہاتھ کیسے اٹھانا چاہئیے ؟
حضرت السلام علیکم ، حضرت ایک مسٔلہ بتا دیں کہ دعا مانگتے وقت ہاتھوں کو کس طرح سے کرکے دعا مانگیں، کچھ لوگ دونوں ہاتھوں کو کافی اوپر اٹھائے رکھتے ہیں،کچھ لوگ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے ملا کر مٹھی کی طرح کرکے مانگتے ہیں اور اپنے ماتھے کو ان ہاتھوں کی مٹھی پر رکھے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے پیروں کے ران پر ہاتھوں کی کہنیوں سے ٹیک لگائے ہوئے ہوتے ہیں اور دعا مانگتے ہیں تو صحیح طریقہ کیا ہے بیان فرما دیں۔۔۔الجواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔۔ ترمذی شریف کی حدیث پاک میری نظر سے گزری جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کرنے والے کیلئے مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے دونوں ہاتھ سینہ تک اٹھائے ‘ ہاتھوں کا رخ آسمان کی طرف رکھے اور دعا کے وقت دونوں ہاتھوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھنا اور دونوں کو دراز کرنا بہترہے ۔ جیسا کہ جامع ترمذی شریف ج ٢ابواب الدعوات ص ١٧٦میں حدیث پاک ہے :عن عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذارفع یدیہ فی الدعاء لم یحطہما حتی یمسح بھماوجھہ۔ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعاء کیلئے جب اپنے مبارک ہاتھ اُٹھاتے تو اپنے چہرۂ مبارک پر پھیرنے سے پہلے نہ چھوڑتے ۔ (جامع ترمذی شریف ج ٢ابواب الدعوات ص ١٧٦باب ماجاء فی رفع الایدی عند الدعائ) در مختار ج ١،باب صفۃ الصلاۃ،ص٣٧٥، میں ہے: (فیبسط یدیھ )حذاء صدرہ (نحوالسماء) لانھا قبلۃ الدعاء ویکون بینھما فرجۃ۔ واللہ اعلم بالصواب – از۔۔۔ محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی گورکھپور یو پی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ