لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

داڑھی مونڈنے کی اجرت لینا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

داڑھی مونڈنے کی اجرت لینا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید قوم کا نائ اور مسلمان ہے لیکن وہ شخص مسلمان اور غیر مسلم کی داڑھیاں بناتا ہے. لہذا ایسی صورت میں زید کے گھر کھانا پینا درست ہے یا نہیں جو شریعت کا حکم ہو تحریر فرمائیں؟ الجوابــــــــــــــــــ مسلمان نائی کے لیے داڑھی مونڈنے کی اجرت لینا حرام ہے. وجہ یہ ہے کہ داڑھی مونڈنا اور منڈانا حرام ہے اور حرام و ناجائز کام پر اجرت لینا بھی حرام و ناجائز ہے. در مختار باب الاجارہ الفاسدہ میں ہے ” ولا تصح الاجارۃ لاجل المعاصی مثل الغناء والنوح والملاھی ” (جلد ٦ صفحہ ٥٥) اور البحر الرائق میں ہے ” وان اعطاھا الاجر لا یحل لہ ویجب علیہ ردہ علی صاحبہ ” ١ھ. (جلد ٨ صفحہ ٢٠) یہ شخص اگر عین اسی مال حرام سے کھلائے تو نہ کھائیں، لیکن جب اس کا مال حلال وحرام دونوں طرح کا ہے اور دونوں باہم مخلوط ہوتا ہے تو یہ معلوم ہی نہیں ہو سکتا کہ خاص مال حرام سے ضیافت کا انتظام ہوا ہے. علاوہ ازیں اجرت میں روپے پیسے ملتے ہیں جو خود کھائے نہیں جاتے بلکہ ان سے کوئی چیز مطعومات مشروبات سے خریدی جاتی ہے جس پر عموماً عقد و نقد جمع نہیں ہوتے اس لیے اس کے یہاں کھانا مال حرام کھانا نہیں. تاہم علماء، حفاظ اور ائمہ وقراء کو اس کے یہاں کھانے سے احتراز کرنا چاہیے تاکہ اس سے لوگوں کو عبرت حاصل ہو. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد نیاز احمد برکاتی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات