لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

داڑھی منڈانے والا اذان کہہ سکتا ہے کہ نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

داڑھی منڈانے والا اذان کہہ سکتا ہے کہ نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب داڑھی منڈانے والا فاسق ہے در مختار جلد پنجم صفحہ 261 میں ہے: ” يحرم على الرجل قطع لحيته : داڑھی منڈانے والے کی اذان مکروہ ہے اس لئے کہ وہ فاسق ہے۔ اور در مختار مع شامی جلد اول صفحہ ۲۸۹ میں ہے: یکرہ اذان فاسق اه . ” اور حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں : وخنثی و فاسق اگر چہ عالم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نا سمجھ بچے اور جنب کی اذان مکروہ ہے۔ ان سب کی اذان کا اعادہ کیا جائے ۔ (بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۳۱) و الله تعالى اعلم الجواب صحیح : جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : ابرار احمد امجدی برکاتی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات