دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #270
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مقروض شخص پر زکوٰۃ کا حساب اور حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
6,720
سوال (Question):
اگر کسی کے پاس نصاب جتنا مال ہو لیکن اس پر قرض بھی ہو تو زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت کل مالیت میں سے واجب الادا قرض کو منہا (Minus) کیا جائے گا۔ اگر قرض نکالنے کے بعد باقی مال نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) تک پہنچتا ہے تو زکوٰۃ فرض ہے، ورنہ نہیں۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat