بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-57 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
خودکشی کرنا حرام اور অত্যন্ত سنگین کبیرہ گناہ ہے، لیکن ایسا کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ اس لیے خودکشی کرنے والے مسلمان کو غسل بھی دیا جائے گا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ البتہ عبرت کے لیے شہر کے بڑے علماء اور نیک لوگوں کو اس کے جنازے میں شرکت سے گریز کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ