لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

خواتین کا زیر ناف بال استرے وغیرہ سے صاف کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

خواتین کا زیر ناف بال استرے وغیرہ سے صاف کرنا

ابورضا محمد عمران عطاری مدنی (سیدی اعلیٰ حضرت سے سوال ہوا، کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرد اگر اپنے زیر ناف کے بال مقراض سے تراشے یا عورت استرہ لے تو جائز ہے یانہیں؟ (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس سوال کے جواب میں تحریر فر ماتے ہیں، (کہ حلق و قصر و نتف و تنور یعنی مونڈنا، کترنا، اکھیڑنا اور نورہ لگانا سب صورتیں جائز ہیں، کہ مقصود اس موضع جگہ) کا پاک کرنا ہے اور وہ سب طریقوں میں حاصل ہے: (فتاویٰ رضویہ جلد22 صفحہ600 رضا فاؤنڈیشن لاہور) مرد و عورت دونوں کے لئے بغلوں کے بالوں کو اکھاڑنا سنت ہے اور مونڈنا یا پاؤڈر یا ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے، مرد کو ناف کے نیچے کے بالوں کو استرے یا ریزر وغیرہ سے صاف کرنے چاہیے، چونے ،پاؤڈر اور ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے، جبکہ عورت کے لئے ان بالوں کو اکھاڑنا سنت ہے,اور چونے ،پاؤڈر اور ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے- نوٹ: مطالعہ فرما کرشیئر ضرور کریں.. اللہ تعالٰی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات