بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1301 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
خواتین کا زیر ناف بال استرے وغیرہ سے صاف کرنا
ابورضا محمد عمران عطاری مدنی (سیدی اعلیٰ حضرت سے سوال ہوا، کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرد اگر اپنے زیر ناف کے بال مقراض سے تراشے یا عورت استرہ لے تو جائز ہے یانہیں؟ (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس سوال کے جواب میں تحریر فر ماتے ہیں، (کہ حلق و قصر و نتف و تنور یعنی مونڈنا، کترنا، اکھیڑنا اور نورہ لگانا سب صورتیں جائز ہیں، کہ مقصود اس موضع جگہ) کا پاک کرنا ہے اور وہ سب طریقوں میں حاصل ہے: (فتاویٰ رضویہ جلد22 صفحہ600 رضا فاؤنڈیشن لاہور) مرد و عورت دونوں کے لئے بغلوں کے بالوں کو اکھاڑنا سنت ہے اور مونڈنا یا پاؤڈر یا ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے، مرد کو ناف کے نیچے کے بالوں کو استرے یا ریزر وغیرہ سے صاف کرنے چاہیے، چونے ،پاؤڈر اور ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے، جبکہ عورت کے لئے ان بالوں کو اکھاڑنا سنت ہے,اور چونے ،پاؤڈر اور ہیئر ریمؤر کریم وغیرہ سے بھی دور کرنا جائز ہے- نوٹ: مطالعہ فرما کرشیئر ضرور کریں.. اللہ تعالٰی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ