دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2276
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
8,851
سوال (Question):
حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ سوال عرض یہ ہے کہ حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ سائل : عبدالکلام ۔ اٹوا بازار سدھارتھ نگر یوپی وعلیکم السلام باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب حیض ونفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا جائز ہے،ان دنوں میں صرف ناف سے گھٹنوں تک نفع اٹھانا ممنوع ہے ۔ ان کے علاوہ سے کسی طرح کا نفع اٹھانا ممنوع نہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے (ومنها) حرمة الجماع.هكذا في النهاية والكفاية- وله ان يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند ابي حنيفة وابي يوسف.هكذا في السراج الوهاج” (ج ۱ ص ۳۹/ المكتبة الشاملة الحديثة) اور بہار شریعت میں ہے “ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حرج نہیں-یوں ہی بوس وکنار بھی جائز ہے” (ج ۱ ح ۲ ص ۳۸۲۔مکتبة المدينه دعوت اسلامى) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ،نیروجال،راجوری،جموں وکشمیر۔ ۲۲/جمادی الاولی ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۷/دسمبر ۲۰۲۱ء الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat