بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1305 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حیض و نفاس کی حالت میں مرد و عورت کا ایک ساتھ کھنا اور سونا جائز ہے؟
الجـــــوابــــــــــــ حالت حیض و نفاس میں مرد کا اپنی بیوی کو اپنے ساتھ کھلانا یا ایک جگہ سونا جائز ہے بلکہ اس وجہ سے ساتھ نہ سونا مکروہ ہے ۔ سوال :حیض و نفاس کی حالت میں مرد اپنی بیوی کے کس حصۂ بدن سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ الجـوابــــــــــــ اس حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عُضْوْ سے چھونا جائز نہیں، جبکہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو شَہوت سے ہو یا بے شَہوت اور اگر ایسا حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حَرَج نہیں)) (اسی طرح ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حَرَج نہیں، یوہیں بوس وکنار بھی جائز ہے- (بہار شریعت حصہ2حیض و نِفاس کے متعلق احکام مسئلہ نمبر 31، 32، 33- مکتبۃ المدینہ)جنابت اور حیض ونفاس کی حالت ميں قرآن کی تلاوت درود شريف اور ذکر وغیرہ پڑهنا
حیض و نفاس کی حالت میں بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنا کیسا ہے ؟
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ