لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

حیض ختم ہوتے ہی بیوی سے مباشرت کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حیض ختم ہوتے ہی بیوی سے مباشرت کرنا

سوال :اگر عورت کو عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی حیض ختم ہوجائے تو کیا اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے؟ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب مذکورہ صورت میں اگر تو حیض پورے دس دن پر ختم ہوا تھا تو حیض ختم ہوتے ہی صحبت کرنا جائز ہے اگرچہ ابھی غسل نہ کیا ہو، لیکن مستحب یہی ہوگا کہ غسل کر نے کے بعد ہی صحبت کی جائے، اور اگر عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی حیض ختم ہوا تو عورت غسل کرکے نماز شروع کردے، لیکن اس سے صحبت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہوگا جب تک عادت کے دن پورے نہ ہوجائیں- سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، کہ جو حیض اپنی پوری مدت(یعنی: دس دن کامل سے کم میں ختم ہوجائے اس میں دو صورتیں ہیں یا تو عورت کی عادت سے بھی کم میں ختم ہوا یعنی اس سے پہلے مہینے میں جتنے دنوں آیا تھا اتنے دن بھی ابھی نہ گزرے اور خون بند ہوگیا جب تو اس سے صحبت ابھی جائز نہیں، اگرچہ نہالے اور اگر عادت سے کم نہیں مثلاً پہلے مہینے سات دن آیا تھا اب بھی سات یا آٹھ روز آکر ختم ہوا یا یہ پہلا ہی حیض ہے جو اس عورت کو آیا اور دس دن سے کم میں ختم ہوا تو اس سے صحبت جائز ہونے کے لئے دو باتوں سے ایک بات ضرور ہے یا تو عورت نہالے اور اگر بوجہ مرض یا پانی نہ ہونے کے تیمم کرنا ہو تو تیمم کرکے نماز بھی پڑھ لے، خالی تیمم کافی نہیں یا طہارت نہ کرے تو اتنا ہو کہ اس پر کوئی نمازِ فرض، فرض ہوجائے(یعنی: نمازِ پنجگانہ سے کسی نماز کا وقت گزرجائے جس میں کم سے کم اس نے اتنا وقت پایا ہو جس میں نہاکر سر سے پاؤں تک ایک چادر اوڑھ کر تکبیر تحریمہ کہہ سکتی تھی، اس صورت میں بے طہارت بھی اس سے صحبت جائز ہوجائے گی، ورنہ نہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد4، صفحہ 352- رضا فاؤنڈیشن لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات