دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #44
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
حمل (Pregnancy) کی حالت میں طلاق کا حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
5,622
سوال (Question):
کیا حاملہ عورت کو طلاق ہو جاتی ہے اور اس کی عدت کیا ہوتی ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
عوام میں یہ غلط فہمی ہے کہ حمل کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی۔ شرعاً حمل کی حالت میں دی گئی طلاق بالکل واقع ہو جاتی ہے۔ حاملہ عورت کی عدت بچے کی پیدائش تک ہوتی ہے (وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ)۔ طلاق کے بعد جس دن اور جس وقت بھی بچہ پیدا ہو جائے، عدت فوراً ختم ہو جائے گی۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat