صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1755 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

حلالہ میں شوہر ثانی کے طلاق نہ دینے کا اندیشہ ہو تو؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 8,953

سوال (Question):

حلالہ میں شوہر ثانی کے طلاق نہ دینے کا اندیشہ ہو تو؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حلالہ میں شوہر ثانی کے طلاق نہ دینے کا اندیشہ ہو تو؟

مسئلہ:- از: احسان اللہ، جوہی کالونی ، کانپور زید نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی جس کے کچھ بچے ہیں۔ بعد عدت مرد و عورت دونوں چاہتے ہیں کہ حلال ہوجائے لیکن عورت کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ میں جس سے نکاح کروں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ طلاق نہ دے تو میرے بچے چھوٹ جائیں گے تو اس صورت میں کون سا طریقہ اختیار کیا جائے کہ حلالہ ہو جائے اور عورت کو بچے کے چھوٹنے کا اندیشہ نہ رہے۔ بینوا توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــ ایک آسان صورت یہ ہے کہ کی عورت جس مرد سے حلالہ کے لئے نکاح کرے تو اس شرط پر نکاح کرے کہ مجھے اختیار ہے جب چاہوں اپنے آپ کو طلاق دی لوں یعنی نکاح خواں شوہر ثانی سے کہے کہ میں نے بحیثیت وکیل فلانہ بنت فلاں کو تمہارے نکاح میں بعوض اتنے مہر کے اس شرط پر دیا کہ وہ جب چاہے گی اپنے آپ کو طلاق بائن دے لے گی اگر وہ اس شرط کو قبول کر لے تو نکاح ہو جائے گا۔ اب عورت کو اختیار حاصل رہے گا وہ جب چاہے اپنے اپنے کو طلاق لے لے گی۔ ایسا ہی بہار شریعت حصہ ہفتم صفحہ 10 میں ہے۔ اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 273 پر ہے :” إن ابتدأت المرأة فقالت زوجت نفسي منك علي ان يكون الأمر بيدي أطلق نفسي كما شئت فقال الزوج قبلت جاز النكاح ويكون الأمر بيدها. اه‍ ملخصا. مگر ہر عورت کو اس طرح شرط لگا کر نکاح کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی کہ عورتیں عموما کم عقل ہوا کرتی ہیں وہ جب چاہیں گے ذرا ذرا سی بات پر طلاق دے لیں گے جس کے سبب بہت سی خرابیاں پیدا ہوں گی اسی بنیاد پر شریعت مطہرہ نے طلاق دینے کا اختیار صرف مردوں کو دیا ہے خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے :” بيده عقدة النكاح.” یعنی نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے۔ (پ۲ سورہ بقرہ، آیت ٢٣٧) والله تعالى اعلم بالصواب. الجواب الصحيح:- جلال الدين احمد الامجدي كتبه:- محمد اويس القادري امجــــــــــــــدي

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat