لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

حلالہ میں شوہر ثانی کے طلاق نہ دینے کا اندیشہ ہو تو؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حلالہ میں شوہر ثانی کے طلاق نہ دینے کا اندیشہ ہو تو؟

مسئلہ:- از: احسان اللہ، جوہی کالونی ، کانپور زید نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی جس کے کچھ بچے ہیں۔ بعد عدت مرد و عورت دونوں چاہتے ہیں کہ حلال ہوجائے لیکن عورت کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ میں جس سے نکاح کروں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ طلاق نہ دے تو میرے بچے چھوٹ جائیں گے تو اس صورت میں کون سا طریقہ اختیار کیا جائے کہ حلالہ ہو جائے اور عورت کو بچے کے چھوٹنے کا اندیشہ نہ رہے۔ بینوا توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــ ایک آسان صورت یہ ہے کہ کی عورت جس مرد سے حلالہ کے لئے نکاح کرے تو اس شرط پر نکاح کرے کہ مجھے اختیار ہے جب چاہوں اپنے آپ کو طلاق دی لوں یعنی نکاح خواں شوہر ثانی سے کہے کہ میں نے بحیثیت وکیل فلانہ بنت فلاں کو تمہارے نکاح میں بعوض اتنے مہر کے اس شرط پر دیا کہ وہ جب چاہے گی اپنے آپ کو طلاق بائن دے لے گی اگر وہ اس شرط کو قبول کر لے تو نکاح ہو جائے گا۔ اب عورت کو اختیار حاصل رہے گا وہ جب چاہے اپنے اپنے کو طلاق لے لے گی۔ ایسا ہی بہار شریعت حصہ ہفتم صفحہ 10 میں ہے۔ اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 273 پر ہے :” إن ابتدأت المرأة فقالت زوجت نفسي منك علي ان يكون الأمر بيدي أطلق نفسي كما شئت فقال الزوج قبلت جاز النكاح ويكون الأمر بيدها. اه‍ ملخصا. مگر ہر عورت کو اس طرح شرط لگا کر نکاح کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جاسکتی کہ عورتیں عموما کم عقل ہوا کرتی ہیں وہ جب چاہیں گے ذرا ذرا سی بات پر طلاق دے لیں گے جس کے سبب بہت سی خرابیاں پیدا ہوں گی اسی بنیاد پر شریعت مطہرہ نے طلاق دینے کا اختیار صرف مردوں کو دیا ہے خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے :” بيده عقدة النكاح.” یعنی نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے۔ (پ۲ سورہ بقرہ، آیت ٢٣٧) والله تعالى اعلم بالصواب. الجواب الصحيح:- جلال الدين احمد الامجدي كتبه:- محمد اويس القادري امجــــــــــــــدي

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات