لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے جانداروں کی تصویریں بنانا

کیا AI (Artificial Intelligence) کا استعمال کر کے انسانوں یا جانوروں کی خیالی تصاویر بنانا جائز ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شریعت میں کسی بھی طریقے (قلم، پینٹ، یا کمپیوٹر سافٹ ویئر) سے جاندار (انسان یا جانور) کی خیالی یا مصنوعی تصویر بنانا ‘تصویر کشی’ کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ حرام ہے۔ ڈیجیٹل کیمرے کے عکس پر اختلاف ہے، لیکن AI سے خود تخلیق کی گئی تصویر بالاتفاق ناجائز ہے۔ غیر جاندار (مناظر) کی تصویر جائز ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات