صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2668 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

حدیث شریف کا اِنکار کرنا کیسا ہے ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 11,045

سوال (Question):

حدیث شریف کا اِنکار کرنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مطلقا حدیث شریف کا اِنکار کفر ہے

اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ اگر کوئی شخص حضور ﷺکی حدیث کو مطلقا انکار کرے اس کے لیے کیا حکم ہے ؟براےکرم جواب عنایت فرمائیں ۔ المستفتی★ محمــــــــد محمود رضا ممبئی وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ الجـــــوابـــــــــــــــ بعون الملک الوہاب صورت مسئولہ میں جواب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی حدیث شریف کا مطلقا انکار کرے تو کفر ہے اور وہ کافر و مرتد ہے ، جیسا کہ شارح بخاری فقیہ اعظم ہند حضرت علّامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں کہ “حدیث کا مطلقا انکار کرنے والا کافر ہے اور یہ کہنا کہ ہم حدیث کو نہیـــــں مانتے حدیث کا مطلقا انکار ہے اس لیے یہ شخص کافر و مرتد ہے, خود قرآن کریم نے ایسے کو کافرومرتد کہا ارشاد ہے: “فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت و یسلموا تسلیما” ترجمہ،تو اے محبوب, تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میـں تمہیِں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم فرمادو وہ اپنے دلوں میـں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں ۔ (( قرآن کریم آیت ۴۵ پارہ ۵ سورة النسا)) ((فتاویٰ شارح بخاری جلد دوم ص ۳۱۰ مکتبہ دائرۃ البرکات گھوسی ضلع مئو یوپی)) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ محــمد نـورجـمال رضـوی, دیناج پـوری بنــگال (۲۵) رمضان المبارک ۲٤٤١؁ھ بروز سنیچر

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat