بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2499 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حج میں طواف کے بعد چپل وغیرہ غائب ہونے کی صورت میں کیا دوسرے کی چپل پہننے کی رخصت ہے؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ دوسرے کے چپل یا دوسرے کا کوئی بھی سامان بغیر اس کی اجازت کے اپنے استعمال میں لانا ناجائز اور حرام و گناہ ہے۔ جس طریقے سے حرم میں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ نیکی کے برابر ہوتا ہے ویسے ہی وہاں پر ایک برائی کا گناہ ایک لاکھ گناہ کے برابر ہوتا ہے لہذا ہرگز ہرگز ایسا نہ کریں کہ دوسرے کی چپل بلااجازت پہن لیں، بلکہ پیسے خرچ کر کے چند جوڑی چپل خرید لیں تاکہ اگر آپ کی ایک جوڑی غائب ہو جائے تو دوسری جوڑی پہن لیں. شریعت اسلامیہ میں دوسرے کے چپل بلااجازت پر لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ