دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #372
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
شدید غصے کی حالت میں طلاق دینے کا شرعی حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
5,839
سوال (Question):
میں نے اپنی بیوی کو بہت تیز غصے میں تین طلاقیں دے دیں، کیا طلاق ہو گئی؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
طلاق عام طور پر غصے میں ہی دی جاتی ہے۔ اگر غصہ اس حد تک ہو کہ انسان عقل و ہوش کھو بیٹھے (پاگل پن کا دورہ پڑ جائے) اور اسے معلوم نہ ہو کہ کیا کہہ رہا ہے، صرف اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن اگر وہ جانتا تھا کہ وہ طلاق دے رہا ہے تو غصے کے باوجود طلاق واقع ہو جائے گی۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat