دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #448
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ساس بہو کے جھگڑے اور بیوی کا الگ رہائش کا شرعی حق
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
1
21
سوال (Question):
جوائنٹ فیملی میں روز جھگڑے ہوں تو کیا بیوی شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
شرعاً بیوی کا یہ حق ہے کہ شوہر اسے ایک ایسا کمرہ فراہم کرے جس میں اس کی مرضی کے بغیر کوئی (ساس نند بھی) نہ آ سکے۔ اگر جوائنٹ فیملی میں پردے کا مسئلہ ہو، یا ساس بہو کی نہ بنتی ہو جس سے ازدواجی زندگی خراب ہو رہی ہو، تو بیوی کا الگ رہائش (Separate Accommodation) کا مطالبہ کرنا اس کا شرعی حق ہے اور شوہر پر استطاعت کے مطابق دینا لازم ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat