لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

حاملہ عورت سے ہمبستری کرنا کیسا ہے ؟ از مفتی صدام حسین فیضی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حاملہ عورت سے ہمبستری کرنا کیسا ہے ؟

حضرت ایک سوال ہے کہ حاملہ عورت سے ہمبستری کرنا کیسا ہے؟ المستفتی محمد افروز اشرفی میرانی یوپی انڈیا۔ الجوابــــ بعون الملک الوھاب- صورت مستفسرہ میں شرعا وضع حمل تک ہمبستری کرنا جائز ہے ۔ ہاں حمل یا حاملہ کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو ڈاکٹر منع کرے تو بچنا چاہئے ۔ احسن الفتاوی المعروف بہ فتاوی خلیلیہ میں ہے :” دوران حمل وضع حمل تک مباشرت شرعاً جائز ہے لیکن اگر ڈاکٹرز منع کردیں یا تکلیف کا خطرہ ہو تو پرہیز کرنا چاہئے۔ (جلد١ صفحہ٥٦٤ كتاب النكاح والطلاق باب المحارم) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات