بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1227 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حاملہ سے مباشرت کا مسئلہ | حاملہ عورت سے کب تک ہمبستری کر سکتے ہیں ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ؛کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حاملہ عورت کے ساتھ ہمبستری کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (سائل قاری سعید قادری فیصل آباد) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ الجـــــوابــــــــــــ” بعون الملک الوھّاب حاملہ بیوی سے مباشرت کرنا شرعاً جائز ہے کیونکہ حاملہ بيوى کے ساتھ اس موقع پر جماع كرنے كى حرمت کے تعلق سے كوئى دليل نہيں ہے ہاں اگر بیوی تکلیف محسوس کرے یا یہ جانے کہ حمل کو نقصان پہنچے گا تو پرہیز کرنا بہتر ہے- (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا کہ اگر مرد کو معلوم ہو کہ میری بی بی حاملہ ہے تو کس مدت تک عورت سے صحبت کرنا جائز ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا جب تک بچہ پیدا نہ ہو، سیدی اعلیٰ حضرت کے اس جواب سے معلوم ہوا کہ حاملہ سے ہمبستری کرنا شرعاً جائز ہے- (فتاویٰ رضوریہ جلد23،صفحہ380- مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) (فتاویٰ خلیلیہ میں ہے، کہ دوران حمل، وضع حمل تک، مباشرت کرنا شرعاً جائز ہے لیکن اگر ڈاکٹرز منع کردیں یا تکلیف کا خطرہ ہو تو پرہیز کرنا چاہیے- (فتاویٰ خلیلیہ جلد1،صفحہ 564- مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ کتبــــــہ ؛ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ متخصص مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی سٹی پنجاب پاکستان
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ