دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1894
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا پھر رکھنا چاہتا ہے تو کیا کرے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,848
سوال (Question):
حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا پھر رکھنا چاہتا ہے تو کیا کرے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا پھر رکھنا چاہتا ہے تو کیا کرے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت مسئلہ ذیل میں کہ زید نے اپنی بیوی کو حالت حمل میں دو طلاق بائن دیا اور وہ اس کو دوبارہ اپنی زوجیت میں لینا چاہتا ہے لہذا عند الشرع زید کے لیے کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر دو طلاق بائن واقع ہوگئیں اس لیے کہ حالت حمل میں طلاق واقع ہو جاتی ہے اب اگر زید اسے اپنی بیوی بنانا چاہتا ہے تو اسی وقت وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے کچھ عدت گزرنے کی حاجت نہیں. ہاں دوسرے شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو وضع حمل کے بعد کر سکتی ہے اس لیے کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے.فرمان باری تعالی ہے” اولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ” یعنی حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے ” (پارہ ٢٨ سورہ طلاق) حلالہ کی ضرورت نہیں باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ” الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ” ١ھ. (پارہ ٢ سورہ بقرہ آیت ٢٢٩) ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد 5 صفحہ 675 کتاب الطلاق میں ہے. البتہ زید اپنی زندگی میں کبھی بھی اس عورت کو ایک بار بھی طلاق دے گا تو وہ مغلظہ ہو جائے گی. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد ارشد رضا مصباحی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat