لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

حالت حمل میں دو سال سے چھوٹے بچے کو دودھ پلانا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حالت حمل میں دو سال سے چھوٹے بچے کو دودھ پلانا کیسا ہے ؟

سوال : کیا حاملہ عورت اپنے دو سال سے چھوٹے بچے کو حمل کی حالت میں دودھ پلا سکتی ہے ؟ رہنمائی فرمائیں ۔ الجواب  حمل کی حالت میں بھی دو سال سے چھوٹے بچے کو دودھ پلانا جائز ہے اس میں شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ۔ ہاں اگر کوئی ماہر حکیم اور ڈاکٹر اس بارے میں ماں یا بچے کی صحت پر برے اثرات کے بارے میں بتائے تو ایسی صورت میں ان کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے نہ پلانا بہتر ہے ۔ شریعت کی طرف سے دو سال تک بچے یا بچی کو دودھ پلانے کی اجازت ہے ۔ وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ اَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَن يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ سورۃ البقرہ آیت ۲۳۳۔ واللہ اعلم بالصواب ۔۔ مولانا اظہر علیمی استاذ : مدرسہ قادریہ علیمیہ تلوجہ فیس ون نیو ممبئی    

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات