صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #355 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

جسم پر ٹیٹو (Tattoos) گدوانے کا شرعی حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 8,047

سوال (Question):

جسم پر مستقل ٹیٹو (Tattoo) بنوانے کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سوئی سے جسم گود کر اس میں رنگ بھرنا (Tattooing) شریعت میں قطعی حرام ہے۔ حدیث میں ٹیٹو بنانے والے اور بنوانے والے دونوں پر اللہ کی لعنت فرمائی گئی ہے۔ البتہ اگر کسی نے جہالت میں بنوا لیا تو اب سچی توبہ کرے، اگر ٹیٹو کے اوپر جلد برابر ہو تو وضو اور غسل ہو جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat