بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1746 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مصرع: جہاں نام لوں خدا کا وہیں ناؤ ڈگمگائے” کاپڑھناکیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس شعر کے بارے میں کہ "یہ کرم ہے ناخدا کا یا فریب موج دریا_جہاں نام لوں خدا کا وہیں ناؤ ڈگمگائے، اس شعر کی تشریح فرمائیں کیا یہ شعر درست ہے. المستفتی: شمشیر احمد مقام ھتھیوا نوتنواں مہراجگنج یوپی۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں شعر کا معنی یہ ہے کہ” یہ کشتی چلانے والے کا کام ہے یا دریا کے موج وتلاطم کا فریب ودھوکہ ہے کہ جہاں خدا کا نام لیتا ہوں وہیں کشتی ڈگمگاتی ہے” اور یہ شعر شرعا درست نہیں ہے کہ اس میں ﷲ تعالیٰ کے صفاتی نام "الوکیل” بمعنی”کارساز” کے منافی اعتقاد ظاہر کیا گیا ہے اور یہ حرام ہے . ہاں اگر تاویل واستبعاد سے کام لیا جائے تو شعر کا درست معنی بھی نکل سکتا ہے پھر بھی اس طرح کے شعر سے احتراز چاہیے. ھذا ماظھر لی والعلم عند الحق. کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی | ٢١رجب المرجب ١٤٤٣ھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ