لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

جھوٹ بولنے کی اجازت کن مواقع پر شریعت میں ہے؟

کیا اسلام میں کسی بھی حال میں جھوٹ بولنے کی گنجائش ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے۔ البتہ حدیث کی روشنی میں صرف 3 مواقع پر حکمت کے تحت جھوٹ بولنے (یعنی خلافِ واقعہ بات کہنے) کی گنجائش ہے: 1) جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے، 2) دو ناراض مسلمانوں میں صلح کرانے کے لیے، 3) میاں بیوی کا ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے (ایسی بات جس سے کسی کا حق نہ مارا جائے)۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-406 تصدیق شدہ
ٹیگز: متفرقات
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

متفرقات