بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

جھوٹ بولنے کی اجازت کن مواقع پر شریعت میں ہے؟

کیا اسلام میں کسی بھی حال میں جھوٹ بولنے کی گنجائش ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے۔ البتہ حدیث کی روشنی میں صرف 3 مواقع پر حکمت کے تحت جھوٹ بولنے (یعنی خلافِ واقعہ بات کہنے) کی گنجائش ہے: 1) جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے، 2) دو ناراض مسلمانوں میں صلح کرانے کے لیے، 3) میاں بیوی کا ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے (ایسی بات جس سے کسی کا حق نہ مارا جائے)۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز: متفرقات

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات