بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-628 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جو کوٸی سورہ فاتحہ میں نعبد میں ع کی جگہ ھمزہ پڑھے اس کی نماز کا حکم ؟
العارض غلام حسین عطاری الجواب اگر صحیح تلفظ پر قادر تھا اور غلط پڑھا تو نماز نہیں ہو گی. اگر صحیح تلفظ پر قادر نہیں ہے تو حکم یہ ہے کہ صحیح ادائیگی کی ہر ممکن کوشش کرتا رہے ورنہ نماز نہ ہو گی. سیدی اعلی حضرت امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: جو شخص حروف تہجی میں سے کسی حرف کے صحیح تلفّظ پر قادر نہ ہو مثلاً الرحمن الرحیم کی جگہ الرھمٰن الرھیم ،الشیطان کی جگہ الشیتان ، العالمین کی جگہ الآلمین، ایاک نعبد کی جگہ ایاک نأبد، نستعین کی جگہ نستئین ،الصراط کی جگہ السرات ،انعمت کی جگہ انأمت پڑھتا ہے، ان تمام صورتوں میں اگر کوئی ہمیشہ درست ادائیگی کی کوشش کے باوجود ایسا کرتا ہے تو نماز درست ہوگی ورنہ نماز درست نہ ہوگی۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ : مفتی کامران عطاری مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ