دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1764
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جو شرعی حصہ نہ دے اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
8,211
سوال (Question):
جو شرعی حصہ نہ دے اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جو شرعی حصہ نہ دے اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟
سوال : ہمارے یہاں جائیداد کی تقسیم شرعی طور پر نہیں ہوتی ہے. لڑکی کو حصہ نہیں جاتا، بیوہ کی صرف پرورش ہوتی ہے حصہ نہیں ملتا ہے. یہ رائج ہی نہیں ہے. تو شرعی حصہ نہ لینے اور نہ دینے پر امامت کے لئے کیا حکم ہے جبکہ اکثر حضرات اللہ ماشاء اللہ اس فعل میں ملوث ہوں گے. بینوا و توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــ جائیداد کا شرعی طور پر تقسیم نہ کرنا یعنی ماں بہن وغیرہ عورتوں کو حصہ نہ دینا حرام ہے اور فعل حرام میں اکثر لوگ ملوث وہ تو حلال نہیں ہو جائے گا. اپنا حصہ شرعی نہ لینے پر کوئی مواخذہ نہیں لیکن دوسروں کا حصہ غصب کرنے والا اگر صاحب حق کو حصہ نہ دے اور نہ معاف کرائے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں. ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب کتبہ :مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 324
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat