شرعی طور پر مرد کو دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا فرض یا شرط نہیں ہے۔ البتہ قانوناً درکار ہو سکتی ہے۔ لیکن شریعت نے دوسری شادی کے لیے ‘عدل و انصاف’ کو شرط قرار دیا ہے۔ اگر مرد دونوں بیویوں کے درمیان وقت اور اخراجات میں برابری نہیں کر سکتا تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا حرام ہے۔ واللہ اعلم۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-422 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-422
تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن
شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں
اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں: