دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2268
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جمعہ کی اذان ثانی کہاں پر کہنا چاہئیے ؟ مسجد کے اندر یا باہر ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
9,911
سوال (Question):
جمعہ کی اذان ثانی کہاں پر کہنا چاہئیے ؟ مسجد کے اندر یا باہر ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جمعہ کی اذان ثانی کہاں پر کہنا چاہئیے ؟ مسجد کے اندر یا باہر ؟
سلام مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض یہ ہے کہ ہماری مسجد میں محراب کیے پیچھے مغرب کی جانب کمرہ نما ایک جگہ اذان کہنے کیلئے مختص ہے ۔ کیا جمعہ کی اذان ثانی بھی ہم وہاں کہ سکتے ہیں ،جبکہ امام صاحب محراب میں منبر پر تشریف فرما ہوتے ہیں ۔ اور اذان منبر کے پیچھے مختص جگہ پر کہی جاتی ہے ۔ تو کیا حکم شرع ہوگا رھنمائی فرمادیں جزاک اللہ خیرا کثیرا ۔ حافظ وکیل احمد عطاری کھپرو سندھ پاکستان ۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب: اذان ثانی امام کے سامنے اور مسجد سے باہر دی جائے ۔ کیونکہ زمانہ رسالت سے چلتی آئی ہے ۔ اس کے خلاف کرنا درست نہیں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہ اذان مسجد سے باہر دروازے پر ہوتی تھی ۔ سنن ابی داؤد شریف جلد اول صفحہ ۱۵۵ میں ہے: عن السائب بن یزید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر ۱؎۔ سائب بن یزید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے زمانے میں۔ اور کبھی منقول نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا خلفائے راشدین نے مسجد کے اندر اذان دلوائی ہو، اگر اس کی اجازت ہوتی تو بیان جواز کے لئے کبھی ایسا ضرور فرماتے۔(حوالہ فتاوی رضویہ شریف ج۵ ص۳۹۸ رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبہ: فقیر محمد اشفاق عطاری ۲۳ جمادی الاولی ۱۴۴۳ ہجری ۲۸ دسمبر ۲۰۲۱ عیسوی بروز پیر
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat