بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1269 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جماعت چھوڑ کر میلاد شریف پڑھنا !!
بلاشبہ میلاد شریف پڑھنا اور سننا، عین سعادت مندی اور کثیر فیوض و برکات کے حصول کا ذریعہ ہے۔مگر میلاد شریف پڑھنا یا سننا یہ ایک امر مستحب ہے،جس کی وجہ سے کسی فرض و واجب کا ترک قطعاً جائز نہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ قصداً جماعت چھوڑ کر خاص جماعت کے وقت بھی میلاد خوانی میں مصروف رہتے ہیں، حالاں کہ شرعی نقطۂ نظر سے یہ بالکل جائز نہیں۔ جماعت چھوڑ کر خاص جماعت کے وقت میلاد شریف پڑھنا یا سننا، ناجائز و گناہ ہے اور ایسا کرنے والا سخت گنہ گار و مستحقِ عذابِ نار ہے۔ کیوں کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے اور میلاد شریف پڑھنا یا سننا مستحب ہے اور ایک امر مستحب کے سبب واجب کا ترک جائز نہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: [فتاوی فقیہ ملت، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج:2، ص:273 ] اللہ رب العزت ہم سب کو مذہبِ حق اہل سنت و جماعت پر ہمیشہ گامزن رکھے اور افراط و تفریط سے بچائے۔ آمین۔ محمد شفاء المصطفی شفا مصباحی 18؍ دسمبر 2022ء۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ