لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

جماعت چھوڑ کر میلاد شریف پڑھنا !!

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جماعت چھوڑ کر میلاد شریف پڑھنا !!

بلاشبہ میلاد شریف پڑھنا اور سننا، عین سعادت مندی اور کثیر فیوض و برکات کے حصول کا ذریعہ ہے۔مگر میلاد شریف پڑھنا یا سننا یہ ایک امر مستحب ہے،جس کی وجہ سے کسی فرض و واجب کا ترک قطعاً جائز نہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ قصداً جماعت چھوڑ کر خاص جماعت کے وقت بھی میلاد خوانی میں مصروف رہتے ہیں، حالاں کہ شرعی نقطۂ نظر سے یہ بالکل جائز نہیں۔ جماعت چھوڑ کر خاص جماعت کے وقت میلاد شریف پڑھنا یا سننا، ناجائز و گناہ ہے اور ایسا کرنے والا سخت گنہ گار و مستحقِ عذابِ نار ہے۔ کیوں کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے اور میلاد شریف پڑھنا یا سننا مستحب ہے اور ایک امر مستحب کے سبب واجب کا ترک جائز نہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: [فتاوی فقیہ ملت، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج:2، ص:273 ] اللہ رب العزت ہم سب کو مذہبِ حق اہل سنت و جماعت پر ہمیشہ گامزن رکھے اور افراط و تفریط سے بچائے۔ آمین۔ محمد شفاء المصطفی شفا مصباحی 18؍ دسمبر 2022ء۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات