لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

جس کے کاروبار کئی شہروں میں ہوں تو کیا وہ ہر جگہ مقیم ہی رہے گا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جس کے کاروبار کئی شہروں میں ہوں تو کیا وہ ہر جگہ مقیم ہی رہے گا؟

سوال : زید زمانے سے مع اہل و عیال ممبئی میں رہتا ہے اور اس کے کاروبار کئی شہروں میں ہیں اور وہ سو کلومیٹر سے بھی دوری پر ہیں تو زید جب ان جگہوں پر جائے گا تو نماز کی قصر کرے گا یا نہیں؟ زید کو ایک مولانا صاحب نے بتایا کہ جہاں جہاں آپ کی ملکیت ہے وہاں آپ جائیں گے تو مسافرت کا حکم ختم ہو جائے گا اور آپ نمازیں پوری پڑھیں گے آیا مولانا صاحب کا کہنا درست ہے یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں جب کہ وہ جگہیں نہ زید کی جائے پیدائش ہے اور نہ ہی اس نے ان جگہوں کو اپنا وطن بنایا ہے یعنی ارادہ نہیں کیا ہے کہ اب میں یہیں رہوں گا بلکہ وہاں آنا جانا اور قیام کرنا صرف تجارت کی وجہ سے ہے تو وہ جگہیں وطن اصلی نہ ہوئیں. لہذا جب وہ شخص وہاں جائے گا جب تک کم سے کم 15 دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرے گا قصر ہی پڑھے گا. یعنی چار رکعت والی فرض نمازیں دو ہی پڑھے گا ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ 670 پر ہے. اور مولوی صاحب کا یہ کہنا غلط ہے کہ جہاں جہاں اس کا کاروبار ہے وہ مسافر نہیں رہے گا اور نماز پوری پڑھے گا. انہیں مسائل شرعیہ کی جانکاری نہیں ہے اور بغر علم کے شرع کا حکم بتانا حرام ہے. حدیث شریف میں ہے ” من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السماوات والارض ” یعنی جس نے بغیر علم کے فتوی دیا آسمان و زمین کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں. واللہ تعالی اعلم. کتبہ : مفتی محمد حبیب اللہ مصباحی الجواب صحیح: مفتی جلال الدین احمد الامجدی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات