دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2068
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جس کے کاروبار کئی شہروں میں ہوں تو کیا وہ ہر جگہ مقیم ہی رہے گا؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,966
سوال (Question):
جس کے کاروبار کئی شہروں میں ہوں تو کیا وہ ہر جگہ مقیم ہی رہے گا؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جس کے کاروبار کئی شہروں میں ہوں تو کیا وہ ہر جگہ مقیم ہی رہے گا؟
سوال : زید زمانے سے مع اہل و عیال ممبئی میں رہتا ہے اور اس کے کاروبار کئی شہروں میں ہیں اور وہ سو کلومیٹر سے بھی دوری پر ہیں تو زید جب ان جگہوں پر جائے گا تو نماز کی قصر کرے گا یا نہیں؟ زید کو ایک مولانا صاحب نے بتایا کہ جہاں جہاں آپ کی ملکیت ہے وہاں آپ جائیں گے تو مسافرت کا حکم ختم ہو جائے گا اور آپ نمازیں پوری پڑھیں گے آیا مولانا صاحب کا کہنا درست ہے یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں جب کہ وہ جگہیں نہ زید کی جائے پیدائش ہے اور نہ ہی اس نے ان جگہوں کو اپنا وطن بنایا ہے یعنی ارادہ نہیں کیا ہے کہ اب میں یہیں رہوں گا بلکہ وہاں آنا جانا اور قیام کرنا صرف تجارت کی وجہ سے ہے تو وہ جگہیں وطن اصلی نہ ہوئیں. لہذا جب وہ شخص وہاں جائے گا جب تک کم سے کم 15 دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرے گا قصر ہی پڑھے گا. یعنی چار رکعت والی فرض نمازیں دو ہی پڑھے گا ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ 670 پر ہے. اور مولوی صاحب کا یہ کہنا غلط ہے کہ جہاں جہاں اس کا کاروبار ہے وہ مسافر نہیں رہے گا اور نماز پوری پڑھے گا. انہیں مسائل شرعیہ کی جانکاری نہیں ہے اور بغر علم کے شرع کا حکم بتانا حرام ہے. حدیث شریف میں ہے ” من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السماوات والارض ” یعنی جس نے بغیر علم کے فتوی دیا آسمان و زمین کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں. واللہ تعالی اعلم. کتبہ : مفتی محمد حبیب اللہ مصباحی الجواب صحیح: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat