بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1951 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جس چشمہ کے پانی میں کپڑے برتن دھوئیں لوگ اس میں پیشاب کریں تو اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے ہے؟
سوال : ہمارے گاؤں کے کنارے ایک چشمہ ہے جہاں سے پانی نکل کر ایک چھوٹی سی نہر کی شکل بن کر گاؤں کے اندر سے گزرتا ہے جس میں عورتیں برتن اور کپڑے دھوتی ہیں. اس میں جانوروں کو بھی نہلاتے ہیں اور بطخ وغیرہ بھی اس میں گھومتی رہتی ہیں اور تمام مکانوں کا گندا اور نجس پانی بھی اسی نہر کے اندر جاتا ہے. اس کے بعد یہ پانی ایک مسجد سے گزرتا ہے وہاں پر لوگ اسی میں پیشاب کرتے ہیں اور وضو بھی کرتے ہیں تو اس نہر کے اندر وضو اور غسل جائز ہے یا نہیں؟ بینوا و توجروا. الجوابـــــــــــــــــــــ اس نہر میں جہاں نجس پانی یا پیشاب کے سبب پانی کا رنگ و بو یا مزہ نہ بدلا ہو وہاں وضو اور غسل جائز ہے. اور جہاں بدلا ہو وہاں نہیں جائز ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 45 پر ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ