بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1268 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جس نے اذان دی ہو اس کے علاوہ دوسرا اقامت کہہ سکتا ہے؟
الجواب اقامت اسی کا حق ہے جس نے اذان پڑھی ہو اذان دینے والے کی اجازت سے دوسرا بھی کہہ سکتا ہے اور اگر بغیر اجازت کہی اور مؤذن کو ناگوار ہو تو مکروہ ہے- ( سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ اگر مؤذن موجود ہے تو اس کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا تکبیر نہ کہے اور امام کے لئے بھی مناسب نہیں، کہ شرعی عذر کے بغیر کسی دوسرے کو تکبیر کے لئے کہے، شرعی عذر مثلًا اس کی اقامت لحن پر مشتمل ہو، اجازت مؤذن کے بغیر اقامت کہنا مناسب نہیں کہ شاید وہ اسے ناپسند کرتا ہو- (فتاویٰ رضوریہ جلد5،صفحہ418) واللہ اعلم عزوجل و ر سولہ اعلم ﷺ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ