بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1230 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جب بچے کی ولادت ہو تو اس کے کس کان میں اذان اور کس میں اقامت پڑھنی چاہیے؟
الجـــــوابــــــــــــ” بعون الملک الوھّاب جب بچے کی ولادت ہو تو اس کے داہنے(سیدھے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے یہی طریقہ حدیث شریف سے ثابت ہے، (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ،اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، جب بچہ پیدا ہو تو فوراً سیدھے کان میں اذان ،بائیں میں تکبیر کہے کہ خلل شیطان و اُمُّ الصِبْیَان سے بچے- (فتاویٰ رضویہ جلد24صفحہ453-مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور واللہ اعلم عزوجل و ر سولہ اعلم ﷺ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ