بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1944 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
تین مرتبہ کہا تلاکھ دہن پھر کہاں ایک ہجار بار تلاکھ دہن تو کونسی طلاق پڑی؟
مسئلہ:- از : علاؤ الدین ، جگر ناتھ پور ، بستی کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی کو غصہ سے مارتے ہوئے تین بار کہا کہ جاؤ ہم تمہیں "تلاکھ دہن تلاکھ دہن تلاکھ دہن اس کے بعد یہ بھی کہا کہ جاؤ ہم تمہیں” ایک ہجار بار تلاکھ دہن ایسی صورت میں زید کی بیوی پر کون سی طلاق واقع ہوئی اور اس کے لئے شرع کا کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں کہ غصہ میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے بلکہ اکثر طلاق غصہ ہی میں دی جاتی ہے۔ اب زید بغیر حلالہ اس بیوی سے نکاح نہیں کر سکتا۔ قال الله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ۔ ماخوز : از فتاوی فقیہ ملت جلد دوم کتاب الطلاق
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ