لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

تولہ شرعی و عرفی میں فرق از مفتی ارشد حسین فیضی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

تولہ شرعی و عرفی میں فرق زکاۃ شرعی پیمانے سے ادا کی جائے یا انگریزی پیمانے سے؟

مفتی محمد ارشد حسین الفیضی الامجدی السلام علیکم و رحمة الله و بركاته کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین کہ ایک تولہ موجودہ انگریزی پیمانے ( گرام) کے اعتبار سے کتنا ہوتا ہے؟ نیز زمانے میں رائج پیمانے کے اعتبار سے زکاة ادا کی جائےگی یا اسلام کا کوئی اپنا پیمانہ ہے؟ مزید یہ کہ ایک ماشہ کا انگریزی ( گرام یا ملی گرام) کے اعتبار سے کتنا ہوگا؟ ساتھ ہی رَتی کا وزن میں کیا اعتبار ہے؟ جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ المستفتی: محمد حسن فیضی سدتھارتھ نگر یوپی بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب۔ وعليكم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ۔تولہ دوقسم کا مستعمل ہے(١)تولۂ شرعی (٢)تولۂ عرفی یعنی رائج ایک تولۂ شرعی کا وزن قدیم بارہ ماشہ ہے اور ایک ماشہ (جوکہ آٹھ رتی کا ہوتا ہے) کا موجودہ وزن تقریباً١/٠٣٦٨ گرام ہے اور بارہ ماشہ یعنی ایک تولہ کا موجودہ وزن بارہ گرام چار سو اکتالیس ملی گرام چھ پوائنٹ (١٢/٤٤١.٦) ہے اس حساب سے ساڑھے سات تولہ سونا نوے ماشہ ہوا جس کا موجودہ وزن ترانوے گرام تین سو بارہ ملی گرام (٩٣/٣١٢) ہے اور ساڑھے باون تولہ چاندی چھ سو تیس ماشہ ہواجس کا موجودہ وزن تقریباً چھ سو تریپن گرام ہے.(ماخوذ از ماہنامہ اشرفیہ جنوری ٢٠٠٢ء مضمون حضرت مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ. وماہنامہ اشرفیہ شمارہ مئی ٢٠٠٤ء مضمون حضرت مفتی نظام الدین رضوی برکاتی) اور وجوب زکاۃ میں اسی تولۂ شرعی کا اعتبار ہے لہذا جس کے پاس اس تولۂ شرعی کے اعتبار ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ان میں سے کسی ایک کی مالیت کا پیسہ ہو اس پر زکوٰۃ واجب ہے اور تولۂ عرفی یعنی رائج دس گرام کا ہوتا اس لحاظ سے ساڑھے سات تولہ سونے کا موجودہ وزن پچہتر گرام ہوگا جس کا وجوب زکوٰۃ ودیت اور مہر وغیرہ میں کوئی اعتبار نہیں. بہار شریعت میں ہے”سونے کی نصاب بیس مثقال ہے یعنی ساڑھے سات تولے اور چاندی کی دوسو درم یعنی ساڑھے باون تولے یعنی وہ تولہ جس سے یہ رائج روپیہ سوا گیارہ ماشے ہے” اھ(ح٥ص٩٠٢،کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ الذھب والفضۃ،مکتبۃ المدینہ) رد المحتار میں ہے”ولذا کانت الدراھم العشرۃ وزن سبعۃ وھٰذا یجری فی کل شئی حتی فی الزکاۃ ونصاب السرقۃ والمھر وتقدیر الدیات”اھ(ج٣ص٢٦٧،کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ المال) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ:محمد ارشد حسین الفیضی ١٣رمضان المبارک ١٤٤٣ھ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات