لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

تقدیر (قسمت) پر ایمان لانے کا مفہوم

اگر سب کچھ تقدیر میں پہلے سے لکھا ہے تو انسان کو اس کے اعمال کی سزا کیوں ملے گی؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علمِ کامل سے پہلے ہی جانتا ہے کہ بندہ اپنے ارادے اور اختیار سے کیا کرے گا، اور اللہ نے وہی لکھ دیا ہے۔ اللہ کے لکھنے کی وجہ سے بندہ مجبور نہیں، بلکہ بندے نے جو اپنے اختیار سے کرنا تھا، اللہ نے وہ پہلے لکھ دیا۔ انسان کو اعمال کا اختیار دیا گیا ہے اور اسی اختیار کا حساب روزِ قیامت ہوگا۔ تقدیر پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ بھلائی اور برائی سب اللہ کی طرف سے اور اس کے علم میں ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات