بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1838 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
تجارت کی زمین پر زکوۃ ہے یا نہیں؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں میں بکر جو متعدد قسم کے کاروبار کر رہا ہے ان میں سے ایک کاروبار یہ بھی کرتا ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں زمین پلاٹ خرید کر چھوڑ دیتا ہے اور جب اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وہ اپنی فروخت کردیتا ہے. خریدنے اور بیچنے کی مدت کبھی دو تین سال کی ہوتی ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس زمین پر یا اس کی قیمت پر سال گزرنے کی وجہ سے زکوۃ واجب ہوگی؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ جب یہ زمین تجارت ہی کی غرض سے خرید و فروخت کی جاتی ہیں اور ان سے مالک زمین کا مقصد تجارت ہی ہے تو بہرحال سال تمام پر ان کی زکوۃ کی ادائیگی واجب ہوگی اور حولان حول کے وقت ان کی قیمت کا اعتبار ہوگا. فتاوی ہندیہ میں ہے : الزكاۃ واجبۃ في عروض التجارۃ كائنۃ ما كانت اذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهدايه وتعتبر القيمۃ عند حولان الحول بعد ان تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتی درهم من الدراهم١ھ. (جلد ١ صفحہ ١٧٩) والله تعالى اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبـــــــــــــــــــــــہ : مفتی غلام احمد قادری
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ