دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2115
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
تجارت اور بزنس کے لئے بینک سے (سود) پیسہ لینا کیسا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
6,024
سوال (Question):
تجارت اور بزنس کے لئے بینک سے (سود) پیسہ لینا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
تجارت اور بزنس کے لئے بینک سے (سود) پیسہ لینا کیسا ہے ؟
سوال : زید کاروباری آدمی ہے اور دولت مند بھی ہے مگر تجارت کو وسیع کرنے کی غرض سے سودی روپیہ سرکاری بینک سے لینا چاہتا ہے۔ کیا یہ رقم اس کے لئے روا ہے؟ اور اس سے تجارت جائز ہے ؟ ازراہ کرم مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ یہاں کے کفار حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں ۔ ان ھم الا حربی وما یعقلھا الا العالمون ( تفسیرات احمدیہ صفحہ٣٠٠) اور حکومت انہیں کافروں کی ہے اور مسلمانوں و کافر حربی کے درمیان سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔ لاربابین المسلم والحربی فی دار الحرب ۔ اور دارالحرب کی قید واقعی ہے نہ کہ احترازی لہذا یہاں کی حکومت کے بینکوں سے نفع لینا جائز ہے کہ وہ شرعاً سود نہیں لیکن ان کو نفع دینا جائز نہیں ہاں اگر تھوڑا نفع دینے میں اپنا نفع زیادہ ہو تو جائز ہے جیسا کہ ردالمحتار جلد چہارم صفحہ١٨٨ میں ہے “الظاھران الا باحۃ یفید نیل المسم الزیادۃ وقدالزم الا صحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الرباوالقمار ما اذا حصلت الزیادۃ للمسم ۔ وھو تعالی اعلم ۔ کتبــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat