صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1326 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

بے نیت طلاق حالت نشہ وغیرہ میں کئی بار طلاق دیا؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 6,193

سوال (Question):

بے نیت طلاق حالت نشہ وغیرہ میں کئی بار طلاق دیا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بے نیت طلاق حالت نشہ وغیرہ میں کئی بار طلاق دیا؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ اگر شوہر نے شراب پینے کے بعد حالت نشہ میں اپنی بیوی کو طلاق دی اس طرح کہ بیوی کی طرف اشارہ کرکے اس کے بھائی سے کہا کہ جا میں نے اسے طلاق دیدی ایک بار کہا پھر کچھ مہینے کے بعد بیوی سے جھگڑا ہوا تو غصہ میں اس سے کہا جا میں نے تجھے طلاق دی تجھے چھوڑ رہا ہوں اس طرح سے غصہ اور نشہ میں کئی بار طلاق دی لیکن اب کہتا ہے میں نے طلاق کے ارادے سے نہیں کہا تو کیا حکم ہے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ قرآن مقدس اور حدیث شریف کے حوالے سے جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتیہ: نذرانہ بانو موہینی بابا BIC انٹر کالج جھانسی یوپی انڈیا الجواب -بعون الملک الوھاب فتاوی رضویہ میں ہے: “صریح الفاظ میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی” اھ (ج١٢، ص٤٥١، کتاب الطلاق ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) اور حالت نشہ کی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ در مختار میں ہے: “ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولو عبدا مکرھا أو ھازلا أو سفیھا أو سکران” ولو بنبیذ أو حشیش أو افیون أو بنج زجرا به یفتی” اھ (کتاب الطلاق ص ٢٠٦ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت) فتاوی رضویہ جدید میں ہے: “نشہ کی چیز پی اور اس نشہ میں طلاق دی بلاشبہہ بالاتفاق ہوگئی” اھ (ج١٢، ص٣٨٦، کتاب الطلاق ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں اب بے حلالہ رجعت نہیں کرسکتا۔ قرآن مجید میں ہے: ” فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوۡجًا غَیۡرَہٗ ؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۳۰﴾ (سورۃ البقرۃ: ٢٣٠) پھر اگر اس کو ( تیسری ) طلاق دے دی تو وہ عورت اس ( تیسری طلاق ) کے بعد اس پر حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ عورت اس کے علاوہ کسی اور مرد سے نکاح کرے ‘ پھر اگر وہ ( دوسرا خاوند ) اس کو طلاق دے دے تو پھر ان پر کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اس ( طلاق کی عدت کے بعد ) پھر باہم رجوع کرلیں اگر ان کا یہ گمان ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔ اور یہ اللہ کی حدود ہیں جن کو اللہ ان لوگوں کیلیے بیان فرماتا ہے جو علم والے ہیں۔ کتبہ محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
غصہ کی حالت میں طلاق ہوگی یا نہیں ؟ / ناراضگی کی وجہ سے طلاق ؟
اپنی بیوی سے کہا”میں نے تجھے جواب دیدیا” توطلاق ہوئی یانہیں؟

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat