لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے

السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ۔ عرض ہے کہ زید کی بیوی کے پاس پندرہ تولہ سونا ہے جس کی زکاة اس کا شوھر ہمیشہ دیتا ہے۔ اس سال اس کے شوہر پر بیس لاکھ کا قرض ہے پھر بھی وہ زکاة دینا چاھتا ہے۔ جواب عنایت فرمائیں۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین۔ (مولانا) محمد کلیم اشرف رضوی علیمی، بنگلور۔ الجوابـــــــــــــــ عورت اگر مالک نصاب ہے تو اس کے زیورات کی زکاة خود اسی پر واجب ہے۔یوں ہی صدقہ فطر اور قربانی بھی اسی پر واجب ہے ،یہ سب چیزیں اس کے شوہر پر واجب نہیں۔ ہاں! بیوی کی اجازت سے اس کی زکاة اور صدقہ فطر کی ادائیگی اور قربانی شوہر کرسکتا ہے۔ اس لیے جب پندرہ تولہ سونا کی مالک بیوی ہے تو اس سونے کی زکاة اسی پر واجب ہے اور شوہر کے اوپر بیس لاکھ قرض ہونے سے اس کی عورت کے اوپر سے زکاة ساقط نہ ہوگی۔ہاں! اگر یہ قرض بیوی پر ہوتا اور اس کے پاس ان سونوں کے علاوہ اور اتنا مال زکاة نہ ہوتا کہ قرض کی مقدار نکالنے کے بعد سالِ زکاة مکمل ہونے پر نصاب کی مقدار بچتا تو اس پر زکاة واجب نہ ہوتی۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی ، بستی۔ یوپی۔ مجریہ١٢/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ//١۴/اپریل ٢٠٢٢ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات