بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1526 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے
السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ۔ عرض ہے کہ زید کی بیوی کے پاس پندرہ تولہ سونا ہے جس کی زکاة اس کا شوھر ہمیشہ دیتا ہے۔ اس سال اس کے شوہر پر بیس لاکھ کا قرض ہے پھر بھی وہ زکاة دینا چاھتا ہے۔ جواب عنایت فرمائیں۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین۔ (مولانا) محمد کلیم اشرف رضوی علیمی، بنگلور۔ الجوابـــــــــــــــ عورت اگر مالک نصاب ہے تو اس کے زیورات کی زکاة خود اسی پر واجب ہے۔یوں ہی صدقہ فطر اور قربانی بھی اسی پر واجب ہے ،یہ سب چیزیں اس کے شوہر پر واجب نہیں۔ ہاں! بیوی کی اجازت سے اس کی زکاة اور صدقہ فطر کی ادائیگی اور قربانی شوہر کرسکتا ہے۔ اس لیے جب پندرہ تولہ سونا کی مالک بیوی ہے تو اس سونے کی زکاة اسی پر واجب ہے اور شوہر کے اوپر بیس لاکھ قرض ہونے سے اس کی عورت کے اوپر سے زکاة ساقط نہ ہوگی۔ہاں! اگر یہ قرض بیوی پر ہوتا اور اس کے پاس ان سونوں کے علاوہ اور اتنا مال زکاة نہ ہوتا کہ قرض کی مقدار نکالنے کے بعد سالِ زکاة مکمل ہونے پر نصاب کی مقدار بچتا تو اس پر زکاة واجب نہ ہوتی۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی ، بستی۔ یوپی۔ مجریہ١٢/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ//١۴/اپریل ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ