دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1526
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,679
سوال (Question):
بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بیوی کے زیورات کی زکاة شوہر پر واجب نہیں ہے
السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ۔ عرض ہے کہ زید کی بیوی کے پاس پندرہ تولہ سونا ہے جس کی زکاة اس کا شوھر ہمیشہ دیتا ہے۔ اس سال اس کے شوہر پر بیس لاکھ کا قرض ہے پھر بھی وہ زکاة دینا چاھتا ہے۔ جواب عنایت فرمائیں۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین۔ (مولانا) محمد کلیم اشرف رضوی علیمی، بنگلور۔ الجوابـــــــــــــــ عورت اگر مالک نصاب ہے تو اس کے زیورات کی زکاة خود اسی پر واجب ہے۔یوں ہی صدقہ فطر اور قربانی بھی اسی پر واجب ہے ،یہ سب چیزیں اس کے شوہر پر واجب نہیں۔ ہاں! بیوی کی اجازت سے اس کی زکاة اور صدقہ فطر کی ادائیگی اور قربانی شوہر کرسکتا ہے۔ اس لیے جب پندرہ تولہ سونا کی مالک بیوی ہے تو اس سونے کی زکاة اسی پر واجب ہے اور شوہر کے اوپر بیس لاکھ قرض ہونے سے اس کی عورت کے اوپر سے زکاة ساقط نہ ہوگی۔ہاں! اگر یہ قرض بیوی پر ہوتا اور اس کے پاس ان سونوں کے علاوہ اور اتنا مال زکاة نہ ہوتا کہ قرض کی مقدار نکالنے کے بعد سالِ زکاة مکمل ہونے پر نصاب کی مقدار بچتا تو اس پر زکاة واجب نہ ہوتی۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی ، بستی۔ یوپی۔ مجریہ١٢/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ//١۴/اپریل ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat