لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

بیوی پر تشدد اور مار پیٹ کا شرعی حکم

کیا شوہر کو حق ہے کہ بات نہ ماننے پر بیوی کو مارے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اسلام میں بیوی پر جسمانی تشدد کرنا، چہرے پر مارنا یا بے دردی سے پیٹنا شرعاً حرام اور ظلم ہے۔ قرآن مجید نے نافرمان بیوی کی اصلاح کے لیے پہلے سمجھانے، پھر بستر الگ کرنے، اور آخری درجے میں ہلکی ضرب (جس سے نشان نہ پڑے) کی اجازت دی ہے۔ بلاوجہ مارنے والا شوہر ظالم اور فاسق ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات