بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-110 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اسلام میں بیوی پر جسمانی تشدد کرنا، چہرے پر مارنا یا بے دردی سے پیٹنا شرعاً حرام اور ظلم ہے۔ قرآن مجید نے نافرمان بیوی کی اصلاح کے لیے پہلے سمجھانے، پھر بستر الگ کرنے، اور آخری درجے میں ہلکی ضرب (جس سے نشان نہ پڑے) کی اجازت دی ہے۔ بلاوجہ مارنے والا شوہر ظالم اور فاسق ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ