بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1329 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بیوی ماں باپ اور چھ بھائیوں میں ترکہ کیسے تقسیم ہوگا ؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ ہندہ کے شوہر زید کا انتقال ہوگیا اور ان کے نام سے کوئی مکان ودکان کھیت وغیرہ نہیں ہے کچھ بینک بیلنس اور کچھ مال تجارت ہے ان کی کوئی اولاد نہیں ہے ان کے وارثین میں ماں باپ چھ بھائی اور بیوی موجود ہیں تو انہوں نے جو مال چھوڑا ہے اس میں کس کا کتنا حصہ بنتا ہے ؟سائل: محمد عرفان احمد کٹھیلا بازار سدھا رتھ نگر یوپی۔ الجواب-بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ما تقدم وانحصار ورثہ فی المذکورین وعدم موانع ارث کل ترکہ کے بارہ حصہ کرکے اس میں سے تین حصے زید کی بیوی کو اور تین حصے اس کی ماں کو اور چھ حصے اس کے والد کو دیں گے اور بھائیوں کو کچھ نہ دیں گے کہ وہ اصحاب فرائض سے نہیں نہ ہی والد کے ہوتے ہوئے عصبہ بن سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ” وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ ” (سورۃ النساء : ١١) شیخ سراج الدین محمد بن عبد الرشید سجاوندی علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا ہے: "اما للزوجات فحالتان الربع للواحدة فصاعدة عند عدم الولد وولد الابن” اھ (السراجیۃ، ص٢١، مطبوعہ مجلس البرکات الجامعۃ الاشرفیہ) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: "فَاِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَہٗۤ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ ” (سورۃ النساء: ١٢) شیخ سراج الدین محمد بن عبد الرشید سجاوندی علیہ الرحمۃ نے تحریر فرمایا ہے: "واما للام فاحوال ثلاث…و ثلث مابقي بعد فرض احد الزوجين ” اھ (السراجیۃ ملخصاً، ص٢٣، مطبوعہ مجلس البرکات الجامعۃ الاشرفیہ) اور تحریر فرمایا: "اما الاب فله احوال ثلاث…والتعصيب المحض وذلك عند عدم الولد وولد الابن و ان سفل” اھ (السراجیۃ ملخصاً، ص١٧ ، مطبوعہ مجلس البرکات الجامعۃ الاشرفیہ) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ