دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2242
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
بینک سے ملی زائد رقم سود ہے یا نہیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,773
سوال (Question):
بینک سے ملی زائد رقم سود ہے یا نہیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بینک سے ملی زائد رقم سود ہے یا نہیں؟
زید کے پاس کچھ رقم ہے وہ اسے بینک میں متعینہ مدت کے لیے جمع کرنا چاہتا ہے اور مدت خاص گزرنے پر بینک اسے معتد بہ نفع دے گا تو کیا وہ اس نفع کو شادی وغیرہ یا دیگر کار خیر میں صرف کرسکتا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــ حکومت ہند کے بینکوں میں روپے جمع کرنے پر زائد رقم ملتی ہے وہ سود نہیں مال مباح ہے اور مال مباح کا حصول جائز ہے ۔ یہ حکم فکسڈ ڈپوزٹ، سیونگ بینک اکاؤنٹ، سب کو عام ہے ۔ لہذا اس قسم کی نفع کی رقم بینک سے وصول کرنا اور شادی وغیرہ میں خرچ کرنا جائز ہے ۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ اسے اپنے کام میں نہ لا کر فقرا ے مسلمین ، کو دیدیں یا کسی دینی مدرسے میں جمع کردیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat