بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2183 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بیعانہ کی رقم واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
سوال : عام طور پر یہ رائج ہے کہ جب ایک شخص کسی سے کوئی مال خریدتا ہے اور بیچنے والے کو کچھ رقم بیعانہ دیتا ہے پھر کسی وجہ سے وہ مال لینے سے انکار کر دیتا ہے یعنی بیع کو فسخ کر دیتا ہے تو بیچنے والا بیعانہ کی رقم ضبط کرلیتا ہے خریدار کو واپس نہیں کرتا تو یہ جائز ہے یا نہیں ؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ بیچنے والے نے خریدار کے انکار کو مان لیا اور بیع کا فسخ منظورکرلیا تو بیعانہ کی رقم واپس کرنا اس پر لازم ہے ۔ اگرنہیں کرے گا تو سخت گنہگار ہوگا حق العبد میں گرفتارہوگا ۔ اعلی حضرت حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں ہیں کہ بیع نہ ہونے کی حالت میں بیعانہ ضبط کر لینا جیسا کہ جاہلوں میں رواج ہے ظلم صریح ہے ۔ قال اللہ تعالی : لا تاکلوآ اموالکم بینکم بالباطل ۔ پھر چند سطر بعد تحریر فرماتے ہیں کہ بیع کو فسخ ہونا مان کر مبیع نہ دے اور روپے اس جرم میں کہ تو کیوں پھر گیا ضبط کر لے یہ صریح ظلم ہے ۔ بلے ھل ھذا الا ظلم صریح (فتاوی رضویہ جلد ہفتم ص٧) وھوا تعالی اعلم- کتبــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ