صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1732 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

بٹائی میں دس بورے گیہوں ملے تو کیا صرف مالک پر زکوۃ ہے؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 12,345

سوال (Question):

بٹائی میں دس بورے گیہوں ملے تو کیا صرف مالک پر زکوۃ ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بٹائی میں دس بورے گیہوں ملے تو کیا صرف مالک پر زکوۃ ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے ایک بورہ گیہوں بٹائی پر بویا ہے جس سے بیس بورے گیہوں پیدا ہونے کی امید ہے دس بورے کھیت والے کو ملیں گے اور دس بورے زید کو تو اس پیداوار سے زید کو کتنی زکات نکالنی پڑے گی؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں زید کو اپنے حصہ کی زکات نکالنی پڑے گی. درمختار جلد دوم صفحہ 61 میں ہے ” وفی المزارعۃ ان کان البذر من رب الارض فعلیہ ولو من العامل فعلیھما بالحصۃ” اگر اس نے اس کی کاشت بارش، نہر، نالے اور دریا کے پانی سے کی ہے یا بغیر آبپاشی کے قدرتی نمی سے پیدا ہوا ہے تو اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہوگا اور اگر اس کی سیرابی چرسے، ڈول اور پمپنگ سیٹ سے یا پانی خرید کر کیا ہے تو اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہوگا. درمختار صفحہ 53 تا 55 میں ہے ” تجب العشر فی مسقی سماء ای مطر و سیح کنھر ویجب نصفہ فی مسقی غرب ای دلو کبیر و دالیۃ ای دولاب. مخلصا. اور اگر کچھ دنوں بارش کے پانی سے اور کچھ دنوں ڈول وچرسے سے سیراب کیا ہے تو اگر اکثر بارش کے پانی سے سیراب کیا ہے تو عشر واجب ہوگا ورنہ نصف عشر یعنی جب کہ بارش کا پانی ڈول وغیرہ کے پانی سے کم رہا ہوں یا دونوں برابر ہے تو اس صورت میں بھی بیسواں حصہ واجب ہوگا. در مختار جلد دوم صفحہ 55 ہے ” لو سقی سیحا وبالۃ اعتبر الغالب ولو استویا فنصفہ” واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ :مفتی خورشید احمد مصباحی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat