بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1286 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بغیر ٹو پی کے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ سائل :حافظ سلطان عطاری الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب نمازی کے لئے افضل تو یہی ہے کہ عمامہ شریف یا ٹوپی پہن کر ہی نماز اداکرے کیونکہ ننگے سر نماز پڑھنا خلاف سنت ہے، اور فقہائے کرام نے اس کی تین اقسام بیان فرمائ ہیں، سُستی سے ننگے سر نماز پڑھنا(یعنی: ٹوپی پہننا بوجھ معلوم ہوتا ہو یا گرمی معلوم ہوتی ہو تویہ مکروہ تنزیہی ہے، اور اگر تحقیر نماز مقصود ہے، مثلاً نماز کوئی ایسی مُہْتَم بالشان چیز نہیں جس کے لیے ٹوپی یا عمامہ پہنا جائے تو یہ کفر ہے، اور خشوع خُضوع کے لیے ننگے سر نماز پڑھی تو مستحب ہے . امام اہلسنت مجدد دین و ملت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس ﷺ کی سنت کریمہ نماز مع کلاہ و عمامہ ہے، اور فقہائے کرام نے ننگے سر نماز پڑھنے کی تین قسم کی ہے(1)اگر بہ نیت تواضع وعاجزی ہو تو جائز ہے(2) اور بوجہ کسل(یعنی سُستی ہو تو مکروہ(3)اور معاذﷲ نماز کو بے قدر اور ہلکا سمجھ کر ہو تو کفر ہے . (فتاویٰ رضویہ جلد7صفحہ389- رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ کتبـــــــــہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی عفی عنہ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ