بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1651 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بغیر سحری کے نفلی روزہ رکھنا کیسا ہے ؟
سوال : کیا سحری کے بغیر نفلی روزہ رکھ سکتے ہیں؟ سائل : محمد مشتاق خان بلڈر عائشہ نگر مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب سحری کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سحری کھانے کا حکم دیا اور اس کے فضائل وبرکات بھی بیان فرمائے۔ حدیث مبارکہ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ۔ سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ بخاری، الصحیح، 2 : 678، رقم : 1823، دار ابن کثیر الیمامة بیروت مسلم، الصحیح، 2 : 770، رقم : 1096، دار احیاء التراث العربی بیروت نیز فرمایا: فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ. ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق صرف سحری کھانے کا ہے۔ مسلم، الصحیح، 2: 770، رقم: 1096 احمد بن حنبل، 4: 197، رقم: 708 درج بالا احادیث سے ظاہرتا ہے کہ سحری کرنا عبادت اور باعثِ برکت و ثواب ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص سحری کے وقت بیدار نہیں ہوسکا یا با امرِ مجبوری سحری کا اہتمام نہیں کر سکا تو سحری کھائے بغیر بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔ سحری کھائے بغیر روزہ درست ہوگا، مگر سحری کی برکت اور اجر و ثواب سے محرومی رہے گی۔ اس لیے جان بوجھ کر سحری ترک کرنا اہل کتاب کی مشابہت ہونے کے سبب جائز نہیں ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ