صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1837 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست رکھنا کیسا ہے؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 9,996

سوال (Question):

بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست رکھنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست رکھنا کیسا ہے؟

سوال:- بد مذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست کی جائز وناجائز صورتوں کا حکم کیا ہے؟ الجواب بعون الملك الوهاب: بد مذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست اگر بربنائے ضرورت،بقدر ضرورت ہو اور الفت ومحبت اور دوستی کے ساتھ نہ ہو اور اس نشست وبرخاست سے بدمذہبوں کی تعظیم وتکریم مقصود نہ ہو، اور نہ ہی اس سے اپنے دین ومذہب کا نقصان ہو اور نہ ہی اپنے دین ومذہب میں کسی طرح کی کمزوری آنے پائے تو ان شرطوں کے ساتھ بدمذہبوں اورمرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست جائز ہے اور اگر مذکورہ شرطیں نہ پائی جائیں تو ان کے ساتھ نشست وبرخاست ناجائز وحرام ہے،ہاں اگر بدمذہبوں اور مرتدوں کے ساتھ نشست وبرخاست نہ رکھنے کی وجہ سے جبرواکراہ کا صحیح اندیشہ ہو اور یہ شخص مجبور ہوجائے تو بھی اجازت ورخصت ہے- فتاوی رضویہ میں ہے “اور اگر مجلس اور میل جول بربنائے ضرورت بقدر ضرورت بغیر دوستی اور انس ومحبت کے بلا تعظیم وتکریم اور بغیر دینی نقصان یا کمزوری کے ہو تو اس کی اجازت اور رخصت ہے،بصورت دیگر میل جول اور مجلس بھی حرام ہے ہاں اگر کوئی فریق مخالف کے جبر واکراہ کے باعث مجبور ہوجائے تو وہ مستثنی ہے”(ج ۲۱ ص ۱۲۵ تا ۱۲۶/مترجم) اور فتاوی مصطفویہ میں ہے “مسلمان ایسوں سے قطع تعلق اور ان کا حقہ پانی بند کر سکتے ہیں-اگر ان کی شرارتوں سے فتنہ کا خوف کرتے ہیں تو معذور ہیں جب وقت حاجت یہاں تک رخصت دی گئی ہے تو ایسے لوگ جو مرتدین سے میل جول ہی رکھتے ہوں ان کے فتنہ کے اندیشہ سے بھی رخصت بدرجہ اولی ہوگی،ملتقطا”(ص ۴۷۷)والله تعالى أعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدارالعلوم العلیمیہ الجواب صحيح : محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat