لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

باپ دادا نے عشر نہ ادا کیا ہو تو کیا ورثہ پر اس کی ادائیگی ضروری ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

باپ دادا نے عشر نہ ادا کیا ہو تو کیا ورثہ پر اس کی ادائیگی ضروری ہے؟

سوال : ادھر دس بارہ سالوں سے ہمارے والد صاحب گلے کا عشر نکالتے ہیں حالاں کہ اس سے پہلے ہمارے باپ دادا نے عشر نہیں ادا کیا (ہماری معلومات کے مطابق) اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ الجوابــــــــــــــــ اگر آپ کے باپ دادا ابھی تک باحیات ہیں تو ان پر گزشتہ تمام ایام کا عشر ادا کرنا اب بھی واجب ہے. حضور مفتی اعظم ہند سے کسی نے سوال کیا کہ بوجہ عدم واقفیت اب تک جو عشر ادا نہیں کیا گیا اور نہ اب گزشتہ ایام کا ادا کرنا ممکن ہے اس کے لیے کیا کیا جائے؟ تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اب بھی واجب ہے کہ جس قدر غلہ یا پھل ہوں ان کا پورا عشر علیحدہ کرے یا اس کی پوری قیمت دے. جو فصل فروخت کی اس میں یہ تفصیل ہے توبہ کرے اور اس میں دین الہی کی ادا کا ارادہ رکھے اور جس قدر کی ادا پر قدرت پاتا جائے ادا کرتا رہے. (فتاوی مصطفویہ صفحہ 298) اگر آپ کے باپ دادا باحیات نہیں اور وہ غلہ صرف ہو چکا اور اس سلسلے میں ان کے کوئی وصیت بھی نہیں تو ان کے ذمہ جو عشر نکالنا باقی تھا اس کا ادا کرنا ورثہ پر واجب نہیں. فتاوی ہندیہ میں غرور بحر الرائق سے ہے ” یسقط بموت المالک من غیر وصیۃ اذا کان قد استھلکہ” ١ھ. (ص 186 جلد 1 باب السادس فی زکوۃ الزرع والثمار) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد سفیر الحق رضوی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات